تصوير مٹانے كى كونسى صورت ہے جس سے حرام نہيں رہتى ؟

سوال

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں تصاوير مٹانے كا حكم ديا ہے، تو كيا صرف آنكھيں يا چہرہ يا سر مٹانا كافى ہے ؟

الحمد للہ.

تصوير چہرہ ہے، اس ليے چہرہ كو ختم
كرنا ضرورى ہے تا كہ تصوير كى حقيقت ختم ہو جائے، كيونكہ حديث ميں نبى كريم صلى
اللہ عليہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمايا ہے.

اسے بخارى نے روايت كيا ہے.

دوسرى حديث ميں چہرے پر مارنے سے
مراد كى وضاحت يہ كى گئى ہے كہ: چہرے پر نہ مارا جائے تو پھر صورت سے مراد چہرہ ہوا
اس ليے چہرے كے نشانات ختم كرنا ضرورى ہيں.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top